Sunday, July 22, 2018

الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو عوامی سیلاب کو نہیں روک سکوں گا: شہباز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو پھر عوامی سیلاب کو نہیں روک سکوں گا۔

ملتان سے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبائی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن کان کھول کر سن لیں کہ ووٹرز کو روکا تو پورا پاکستان ہو گا اور صوبائی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جیلیں اور ہتھکڑیاں برداشت کی ہیں، عوامی سیلاب کے آگے میں گولی کھاؤں گا لیکن آپ کا ووٹ محفوظ کروں گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے نواز شریف کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے جیسے انہوں نے ملک سے دشمنی کی ہے، دوسری جانب فریال تالپور اور آصف زرداری کو کہا گیا کہ الیکشن کے بعد دیکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی کے خلاف رات 12 بجے کے قریب فیصلہ دیا گیا، الیکشن کمیشن نے ان کے حلقے میں انتخابات ملتوی کر کے اچھا کیا لیکن سب کو الیکشن کے بعد کی تاریخ مل گئی اور حنیف عباسی کو جکڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کو پتہ چل گیا تھا کہ حنیف عباسی 70 ہزار سے شکست دے گا اس لیے انہیں عدالت کا سہارا لینا پڑ گیا۔

صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ووٹ کی پرچی سے نواز شریف، مریم نواز اور حنیف عباسی کو جیل سے نکالیں گے۔

شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الزام خان نے پشاور میٹرو پر 40 ارب روپے برباد کر دیے لیکن ملتان کی میٹروبس آپ کے لیے تحفہ ہے۔

شہبازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے ، میں نے منع کیا:چودھری نثار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نوازشریف کو سزا فو ج سے لڑائی سے قبل ہی ہوگئی تھی جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر شہبازشریف نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے لیکن میں نے منع کیا ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ “ میں گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا ہے کہ میرا نوازشریف سے اختلاف پانامہ سے شروع ہوا ۔ نوازشریف خوش آمد پسند ہیں ۔ مشرف دور میں نوازشریف کے گردوہ لوگ تھے جو ان کو درست مشورے دیتے تھے لیکن آہتہ آہستہ وہ ان کو چھو ڑ کر چلے گئے یا ان کو الگ کردیا گیا اور اس کے بعد نوازشریف کے گرد خوش آمدیوں کا گھیرا وسیع ہوتا گیا ۔ یہ لوگ ایسے درجے کے ہیں کہ میں ان کانام لینا پسند نہیں کرتا ۔شہبازشریف اب آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں حالانکہ انہوں نے کہا تھاکہ چودھری نثار ٹکٹ مانگے نہ مانگے ان کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی حکومت ہے آپ فوجی قیادت کو بلائیں اور جومعاملات ہیں ان کو فوج کے آگے رکھیں میں ان کومشورہ دیتارہا تھا ۔
نوازشریف کو سزا فوج سے لڑائی سے پہلے ہوگئی جب سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ۔ جب عدلیہ نے فیصلہ کیا تو شہبازشریف اس وقت نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے لیکن میں نے کہا کہ یہ اچھا نہیں لگتا ۔ ان کے فوج اور عدلیہ سے تعلقا ت بہت اچھے تھے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ میں آج بھی مسلم لیگ کا ممبر ہوں میر ے داد اورباپ بھی مسلم لیگی تھے نوازشریف تو حادثاتی طور پر مسلم لیگی بنے ہیں۔ مریم نوازکے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں بچوں کے پیچھے ہاتھ باند کرکھڑا نہیں ہو سکتا اور اس موقف پر اب بھی قائم ہوں۔مجھے کوئی غلط راستے پر نہیں لگا سکتا ۔ مجھے ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھنے پر فخر ہے اور میرے خاندان نے فوج کیلئے خون دیا ہے لیکن جب بھی فوج اور سول معاملات درپیش ہوتے تو میں ہمیشہ سول کی طرف کھڑا ہوتا تھا ۔

ان پانچ سالوں میں جب ڈان لیکس ہو یا کوئی اور معاملہ ان کے منہ میں تو زبان نہیں ہوتی تھی ۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹوئٹ آیا تو میں نے بیان دیا کہ یہ ٹوئٹ جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے ۔جب ڈان لیکن پر فوجی قیادت اور سول قیادت میں میٹنگ ہوئی تووہا ں کوئی نہیں بولا، میں پرویز رشید کا دفاع کرتارہا ۔ جورپور ٹ آئی وہ پرویز رشید کی جانب سے فون پیش کئے جانے کے بعد آئی اور فون خود پرویز رشید نے پیش کیا کہ میرا فون لے لیں اور اس موقع پر فون میں انگریزی مسیج پر میں نے کہا کہ پرویز رشید انگریزی میں مسیج نہیں کر سکتا اور اس طرح پرویز رشید کا دفاع کیا ۔جیپ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے جیپ ، کیتلی اور میز کرسی کے نشانات اپلائی کئے تھے اور بالکل آخری دنوں میں مجھ کو جیپ کا نشان مل گیا ۔ اس سارے سیاسی ماحول میں مجھے جوسب سے جرات مندانہ انتخابی مہم لگی ہے وہ پیپلز پارٹی اور بلاول کی ہے ۔ یہ مستقبل میں ان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی ۔

اڈیالہ جیل میں نواز شریف کا گردہ فیل ہونے کا خطرہ،میڈیکل بورڈ نے فوری ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دے دیا

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اڈیالہ جیل میں طبیعت نا ساز ہو گئی ،ان کے جسم میں پانی کی شدید کمی ہو گئی جس کے باعث گردہ فیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ۔

نجی نیوز چینل ’’ ایکسپریس نیوز‘‘  کے مطابق اڈیالہ جیل میں میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ ان کی کڈنی فیل ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ نواز شریف کے جسم میں پانی کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے اور ان کے دل کی دھڑکن بھی نا ہموار ہے۔میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے جسم میں یوریا کی مقدار خطرناک حد تک پہنچ گئی اور کریٹنائن 1.4تک پہنچ گیا ہے ۔میڈ یکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت سے متعلق ہیلتھ سیکریٹری پنجاب کو ہنگامی طور پر آگاہ کردیا اور ساتھ ہی سابق وزیراعظم کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے ۔

آرمی چیف نے مجھ سے کہا تھا کہ ”یہ ہم نے نہیں کیابلکہ عمران خان نے پریشر بنایا ہے“تجزیہ کار ہارون الرشید کا دعویٰ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ آرمی چیف شائد غصہ ہی کریں لیکن ایک ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ”یہ ہم نے نہیں کیابلکہ یہ عمران خان نے پریشر بنایا ہے “


دنیا نیوز کے پروگرام ”ٹو نائٹ ودھ معید پیر زاہ “ میں گفتگو کرتے ہوئے ہارون الرشید نے کہا کہ ہم  ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کومانتے ہیں کہ ساری دنیا کارخ ایک طرف ہوتا ہے اور حالات کارخ کسی اور طرف چلا جاتا ہے ۔ صد ر ممنون نے جو بات کہی تھی کہ ”ان کے چہروں پر پھٹکار برس رہی ہے“بعض اوقات انسان کہتا نہیں بلکہ اس کے منہ سے کہلوا دیا جاتا ہے ۔آرمی چیف پہلے چار ماہ تک نوازشریف سے مفاہمت کرتے رہے۔ ڈان لیکس پر بھی انہوں نے نوازشریف سے مفاہمت کرنے کی کوشش کی لیکن ہوئی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شائد آرمی چیف اس بات کا غصہ ہی کریں لیکن جنرل باجوہ نے مجھ سے ایک ملاقات میں کہاتھا کہ” یہ ہم نے نہیں کیا بلکہ یہ عمران خان نے پریشر بنایا ہے ۔“انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا  کہ الیکشن وقت پر ہونگے ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ الیکشن وقت پر نہیں ہونگے اور ایک دو ماہ لیٹ ہو جائیں گے ۔ اب پولنگ پر دیکھا جائے گا کہ اگر پولنگ ٹھیک ہوتی ہے تو ہم کہیں کہ یہ الیکشن ٹھیک ہوئے ہیں۔

بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان رہ گئے

بہاولپور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے بہاولپورکےجلسے پرعمران خان اورجہانگیر ترین نےعدم اطمینان کااظہارکیاجبکہ مقامی عہدیداروں نے بتایاکہ جلسےکیلئےامیدواروں نےکوئی تعاون نہیں کیا۔تحریک انصاف بہاولپورکےعہدیدارنےانکشاف کیاکہ عمران خان اورجہانگیر ترین نے جلسےمیں کم تعدادمیں لوگوں کی شرکت پربرہمی کااظہارکیا۔

جہانگیرترین نے منتظمین سے پوچھاکہ جلسےمیں موجود زیادہ تعداد تومیں نے لودھراں سے بھجوائی ہےبہاولپوروالےکہاں ہیں؟جس پرضلعی صدروامیدوار پی پی 245اصغرجوئیہ نےبتایاکہ پی پی 246کے امیدوارسمیع اللہ چوہدری اوراین اے 170کے امیدوارملک فاروق اعظم جلسے کے حوالےسے تعاون نہیں کیاتوعمران خان نےغصےسےپوچھا کہ ان کوٹکٹیں کس نےدیں۔اس پرجہانگیرترین نےبتایاپی پی 246کی ٹکٹ پہلےتحسین نوازگردیزی کو دی گئی تھی لیکن بعدمیں سمیع اللہ چوہدری کودی گئی‘عمران خان نےتعاون نہ کرنیوالےامیداواروں پرسخت برہمی کااظہارکیا۔

این اے 118 ، شفقت محمود بمقابلہ خواجہ احمد حسان ،شیر دھاڑے گا یا بلا چلے گا ؟عوامی رائے نے فیصلہ سنا دیا

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 میں سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدواروں سمیت 11 آزاد امیدوار امیدان میں اترے ہیں، این اے 130 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 166 میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز کی مکمل تعداد 4 لاکھ 83 ہزار 914 ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 اور صوبائی اسمبلی کے چاروں حلقوں میں مرد ووٹروں کی تعداد 2 لاکھ 56 ہزار 197 اور خواتین ووٹروں کی تعداد 2 لاکھ 27 ہزار 717 ہے۔مسلم لیگ (ن) نے سابق میئر خواجہ احمد حسان کو میدان میں اتارا ہےجبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شفقت محمود کو ٹکٹ دیا گیا ہے،پیپلز پارٹی نے ممتاز خالد  اور متحدہ مجلس عمل نے لیاقت بلوچ کو امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔الیکشن میں اب صرف تین روز باقی ہیں ،اس اہم ترین حلقے میں کون کتنے پانی میں ہے ؟ تازہ ترین سیاسی تبصرہ  اور حلقے کی عوامی رائے دیکھئے۔