Monday, December 4, 2017

ایک موبائل اور 65ہزار روپے ،80 سے زیادہ افراد کی جان لے گیا

سیہون شریف(ڈیلی پاکستان آن لائن)سیہون شریف میں ملوث مبینہ سہولت کا ر کا کہنا ہے کہ اس کومشن مکمل کرنے پردہشت گرد تنظیم کی جانب سے ا سے ایک موبائل فون اور 65 ہزار روپے انعام میں دیے تھے لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے
نادر علی نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ ان کا تعلق کشمور کے علاقے تنگوانی سے ہے۔ 16 فروری کو انھوں نے ڈاکٹر غلام مصطفی مزاری، برار بروہی اور صفی اللہ کے ہمراہ سیہون کی درگاہ میں خودکش حملہ کیا تھا، جس کی منصوبہ بندی ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں کی گئی تھی۔
ملزم کے بیان کے مطابق منصوبہ بندی میں اس کے علاوہ برار بروہی، صفی اللہ، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری، عبدالستار، اعجاز بنگلزئی، فاروق ، ذوالقرنین اور تنویر موجود تھے۔ میں چونکہ سیہون شہر سے واقف تھا اس وجہ سے مجھے اس مشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔کراچی کی مقامی عدالت میں دیے گئے اس تحریری بیان میں نادر علی نے اپنا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بیان کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کیسے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہوا۔نادر علی جکھرانی نے اس تحریری بیان میں کہا ہے کہ دھماکے سے ایک روز قبل وہ، برار بروہی اور صفی اللہ بس میں بیٹھ کر سیہون پہنچے اور درگاہ کے قریب ایک کمرہ کرائے پر لیا، جس کے بعد ہم تینوں درگاہ پر گئے تاکہ یہ دیکھیں کہ اس کام کو کس طرح سرانجام دیا جائے۔
لال شہباز قلندر کے مزار کے بعد ملزمان کراچی میں کسی درگاہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، نادر جکھرانی کا کہنا ہے کہ وہ مستونگ میں ہی تھے، جہاں اعجاز بنگلزئی نے کال کر کے کہا کہ ایک دوسری کارروائی کے لیے بارود اور اسلحہ کراچی پہنچانا ہے۔کاونٹر ٹیررازم محکمے نے سیہون دھماکے کا کیس فوجی عدالت میں چلانے کی سفارش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ملزم فاروق بنگلزئی، اعجاز بنگلزئی، صفی اللہ اور تنویر افغانستان فرار ہوگئے ہیں۔

Fariha Taj

0 comments: