Wednesday, January 10, 2018

معصوم جانوں کے ضیائع پر سیاست چمکانے کا کاروبار بند کریں۔۔۔!!

تحریر: سبط حیدر

بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں حیوانت کا شکار بننے والی آٹھ سالہ زینب کی موت پر ہر آنکھ اشک بار ہے ۔ درندہ صفت شخص نے سفاکیت کے ساتھ کم سن بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور زیادتی کے بعد بڑی بے رحمی سے قتل کر کے نعش کوڑے کے ڈھیر پرپھینک دی۔میڈیا پر جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی ، حکومت کے خلاف عوام میں رنج و غصہ کی لہر اپنے عروج پر پہنچ گئی۔اس  دل سوز  واقعہ سے فضا سوگوار اور ملک بھر میں کہرام برپا ہے ۔ 
قصور کی عوام نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ملزمان کی گرفتاری تک پر امن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا مگر معصوم ننھی جان کے خون پر بھی مفاد پسند سیاستدانوں نے اپنی سیاست چمکانے کا گھناؤنا کھیل جاری رکھا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پر امن احتجاج کو اشتعال انگیز مظاہرہ میں بدل دیا،احتجاج میں موجود پی اے ٹی کے کارکنان نے پولس پر لاٹھی چارج اور پتھراؤ کیااور  دیکھتے ہی دیکھتے پرا من احتجاج فساد کی شکل اختیار کر گیا اور احتجاج میں شامل افراد مشتعل ہوگئے۔ مشتعل افراد کو روکنے کے لئے پولیس نے فائرنگ کی جسکی ذد میں آکر ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ جس کے بعد عوامی تحریک کے بانی علامہ طاہر القادری کے پنجاب حکومت کو نقارہ بنانے کے اپنی ناکامی کے تمام ترپرانے زخم تازہ ہوگئے اور انھیں پنجاب حکومت کے خلاف سازش رچنے کا ایک اور موقع مل گیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مظاہروں اور احتجاج کا اصل مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد زینب کو انصاف دلانا ہے تو موجودہ صورتحال کو سانحہ ماڈل ٹاؤن سے تشبیہ دینا ، کہاں کی عقلمندی ہے؟ ایسی حرکتوں سے ملزم کو فرار پانے کا موقع کیوں دیا جائے؟ پاکستان عوامی تحریک کے شر پسند ردعمل سے یہ واقعہ سیاسی رنگ دھارن کر لے گا اور اجتجاج کاحقیقی مقصد پس پشت رہ جائے گا۔قصور سانحہ پر پاکستان عوامی تحریک ا پنی سیاست چمکانے کے بجائے ملز م کو کیفر کردار تک پہچانے میں مدد کرنی چاہیے۔

0 comments: