Thursday, October 5, 2017

الیکشن ایکٹ ؛ختم نبوت سے متعلق شقوں کی بحالی کیلئے ترمیمی بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات دو ہزار سترہ میں ترمیم کا بل متفقہ طور پرمنظورکرلیا گیا۔ یہ ترمیمی بل الیکشن ایکٹ 2017 میں ختمِ نبوت حلف نامے میں رونما ہونے والی تبدیلی کو پرانی شکل میں واپس لانے کے لیے منظور کیا گیا۔
ومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایازصادق نے کی۔ وفاقی وزیر قانون اوررہنما ن لیگ زاہد حامد نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کا ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا جسے ارکان نے اتفاق رائے سے منظورکرلیا۔
بل سے متعلق ایوان میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد احمد نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل حکومتی بل نہیں تھا،یہ بل پارلیمانی کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ تاریخی بل منظور کیا تھا جس میں اب ترمیم کر رہے ہیں۔ زاہد حامد نے کہا کہ استغفراللہ ختم نبوت پراثرانداز ہونے والی ترمیم نہیں کرسکتے۔ کوئی اس حصے کو ختم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،کوئی نقطہ اور کوما تبدیل کئے بغیر اسے بحال کیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیرنے الیکشن بل 2017 میں تین ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹائٹل، سیون بی اورسی میں ترمیم کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ انتخابی اصلاحات بل 2017 میں سال دو ہزار دو کے عام انتخابات میں قادیانی عقائد کے حوالے سے شامل کی جانے والی دو شقیں سیون بی اورسیون سی خارج ہوگئی تھیں جنہیں بحال کرنے کیلئے آج ترمیمی بل منظور کیا گیا۔ ان شقوں کی رو سے قدایانی عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد انتخابی عمل میں حصہ لیں تب بھی ان کی حیثیت آئین میں وضع کی گئی حیثیت جیسی ہی رہے گی۔
حکومتی جماعت کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل 2017 کے بعد ختمِ نبوت حلف نامے سے متعلق تبدیلی کو اپوزیشن جماعتوں اور دیگر مکتبہ فکر کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان شقوں کی فوری طور پر بحالی کامطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد اسپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق نے بھی اسے کلیریکل غلطی قرار دیا تھا ۔
اجلاس کے دوران ن لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیربرائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے آئی بی کی جانب سے دہشتگردوں سےروابط رکھنے والے 37 ارکان پارلیمنٹ کی مبینہ فہرست کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ریاض پیرزادہ نے 37 ارکان پارلیمنٹ کے نام ایوان میں دہراتے ہوئے کہا کہ اگرمیں دہشتگرد ہوں تو وزیر کیوں بنایا۔کوئی وزیر یقین دہانی کرائے کہ خط وزیر اعظم ہاؤس نہیں منگوایا گیا۔وزیر اعظم ہاؤس نے لسٹ کیوں منگوائی؟ میڈیا ہاؤس اور ایجنسیوں سے نہیں لڑ سکتا۔
اسپیکرسردارایازصادق نے کہا کہ آئی بی نے پیمرا میں درخواست دی رکھی ہے کہ یہ جعلی لسٹ ہے، ڈی جی آئی بی کو کل چیمبر میں بلاؤں گا آپ وہاں آ جائیں۔ کیس عدالت میں زیرسماعت ہے۔
ریاض پیرزادہ نے آئی بی کی لسٹ پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کیخلاف ایوان سے واک آؤٹ کردیا ،آئی بی کی لسٹ میں شامل دیگرارکان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی اسپیکر نے وزیر دفاع اور وزیر کیڈ کو ارکان کو منانے کیلئے بھیجا جس کے بعد واک آؤٹ کرنے والے ارکان اور وزراء ایوان میں واپس آگئے۔
سابق وزیر اعظم میرظفر اللہ خان جمالی نے ختمِ نبوت حلف نامے میں تبدیلی کا الزام حکومت اور وفاقی وزیرقانون پر لگاتے ہوئے کہا کہ زاہد مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی،وزیر قانون نے بل پڑھا ہی نہیں تھا۔ یہ حکومت نے کیا یا کمیٹی نے، زمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔نواز شریف کو کہا تھا کہ آپکی ٹیم کارکردگی نہیں دکھا سکتی، اب بھی انہیں وزراء کی تبدیلی کا کہا تھا لیکن نہیں سنا گیا۔ کون کیا کر رہا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ یہ نیوز گیٹ جیسا معاملہ ہے،میری تقریراسپیکر بھی منگوا لیتے ہیں اور کہیں اور بھی چلی جاتی ہے۔
ظفراللہ جمالی نے کہا کہ طبعیت ٹھیک نہیں رہتی شاید آئندہ اسمبلی نہ آسکوں، اللہ میرے مرنے سے پہلے ان اسمبلیوں کو موت دے دے۔ سماء

Fariha Taj

0 comments: